سپریم کورٹ کی جانب سے فیصلہ آنے سے قبل مدرسے کے طلبہ کا مستقبل تباہ نہ کریں

بی جے پی کی قیادت والی اتر پردیش حکومت کا ‘اتر پردیش بورڈ آف مدرسہ ایجوکیشن ایکٹ’ میں ترمیم کر کے بورڈ کے ‘کامل’ اور ‘فاضل’ ڈگریاں دینے کے اختیارات ختم کرنے کا اقدام غیر منصفانہ، قبل از وقت اور انتہائی غیر حساسانہ ہے۔ اگرچہ آئینی معاملہ طے پا چکا ہے، لیکن سپریم کورٹ کو ابھی اس بات کا فیصلہ کرنا باقی ہے کہ آیا یو جی سی سے تسلیم شدہ لکھنؤ کی ‘خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی’ ان کورسز کو الحاق دے سکتی ہے، امتحانات منعقد کر سکتی ہے اور پہلے سے داخلہ لینے والے طلبہ کو ڈگریاں جاری کر سکتی ہے یا نہیں۔ اس عبوری انتظام کے حوالے سے عدالت کے فیصلے کا انتظار کرنے کے بجائے، ریاستی حکومت جلد بازی میں قانون سازی کر رہی ہے جس سے مسلم برادری کے سماجی اور تعلیمی اعتبار سے انتہائی پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے ہزاروں طلبہ کا تعلیمی مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے۔ متاثرہ طلبہ کے لیے انصاف اور تعلیمی تسلسل کو یقینی بنانے کی خاطر اتر پردیش حکومت کو چاہیے کہ وہ مجوزہ ترامیم واپس لے اور سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے کا انتظار کرے۔

محمد شفیع
قومی نائب صدر
سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا