New Delhi, 18 June 2016: The Social Democratic Party of India (SDPI) has expressed its dismay and disappointment over the verdict in Gulberg Society, a Muslim residential pocket, massacre case wherein as many as 69 people, including former Congress MP Ehsan Jafri were killed in 2002. In fact it is travesty of justice. It is well known that justice delayed is justice denied and in this case justice was not just delayed but also fractured. Once again it highlights the perennial problem of delayed justice in India, the party said.

SDPI national president A. Sayeed in a statement said that the present judgment is a clear cut case of delayed justice wherein it took 14 years to decide even though the case was under constant public scrutiny. And in the end it is too little to satisfy the ruffled feathers of the relatives of the victims.

He said that delay in delivering justice to riot victims only erodes people’s faith in the judiciary and benefits the criminals who often get benefit of doubt; in so many years, many of the witnesses may die and evidence destroyed. It seems BJP will continue to shield the murderers with brute majoritarianism; and this must be fought politically to ensure justice to the victims.

Sayeed pointed out that the court’s observation on the rioters that “They are not a menace to society, the accused can be reformed”, gives a provision to the government to commute their sentences. It was the darkest day in the history of civil society. Rarest of rare crimes had been committed with active connivance of the BJP state govt., yet the S.I.T. judge found it prudent to award lighter sentences. It is really a matter of disappointment for all those who expect justice from judiciary.

Sayeed, however appreciated the Special Investigation Team for its attempts of bringing the rioters before the rule of law, which is quiet rare in the independent India.

گلبرگ قتل عام فیصلہ انصاف کا مذاق اور متاثرین کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف۔ ایس ڈی پی آئی
نئی دہلی 

سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا نے گلبرگ سوسائٹی قتل عام مقدمے کے فیصلے کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سن 2002 میں گجرات   گلبرک سوسائٹی میں کانگریس رکن پارلیمان احسان جعفری سمیت 69سے زائد لوگوں کا قتل عام ہوا تھا،اس قتل عام معاملہ میں خصوصی عدالت کا فیصلہ در حقیقت انصاف کا مذاق ہے۔ یہ بات عیاں ہے کہ انصاف میں تاخیر انصاف سے محروم کرنا ہے لیکن اس معاملے میں نہ صرف انصاف فراہم کرنے میں تاخیر کی گئی ہے بلکہ مظلومین کو مکمل انصاف نہیں دی گئی ہے۔ جس سے یہ بات اجاگر ہوتی ہے کہ انصاف میں تاخیر کرنے کی ہندوستان کی جو روایت ہے وہ آج بھی باقی ہے۔
سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کے قومی صدر اے سعید نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ گلبرگ سوسائٹی معاملے میں جو فیصلہ دیا گیا ہے وہ بلا شبہ تاخیر سے دیا گیا انصاف ہے۔ اس فیصلے پر پورے ملک کے عوام کی نظر تھی اور اس فیصلے کو سنانے میں نہ صرف 14سال کا لمبا عرصہ لگا ہے بلکہ متاثرین کے خاندان کو غیر مطمئن اور ادھورا انصاف ہی فراہم کیا گیا ہے۔ قومی صدر اے سعید نے اس بات کی طرف خصوصی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ فساد متاثرین کو انصاف فراہم کرنے تاخیر کرنے سے عوام کو عدلیہ پر جو اعتماد ہے اس کو ٹھیس پہنچا ہے اور مجرمین کو اس سے فائدہ مل سکتا ہے۔ انصاف میں طوالت کے درمیان یا تو کئی گواہ مرجاتے ہیں یا ثبوتوں کو تباہ کردیا جاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی قاتلوں کو بچانے کے لیے شدت کے ساتھ اپنی کوشش جاری رکھے گی ، لہذا متاثرین کو انصاف دلانے کے لیے ہمیں سیاسی طور پر اپنی لڑائی جاری رکھنی ہوگی۔ قومی صدر اے سعید نے اس بات کی طرف نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ فسادیوں پر عدالت نے اپنے مشاہدے میں کہا ہے کہ” بلوائی معاشرے کے لیے خطرہ نہیں ہیں اور ملزمین کی اصلاح کی جاسکتی ہے۔”عدالت کے اس مشاہدے سے حکومت کو یہ جواز ملتا ہے کہ وہ ملزمین کو سنائے گئے سزا میں تبدیلی کرسکیں۔ گلبرگ سوسائٹی قتل عام مقدمے کا فیصلے کا دن بلاشبہ سول سوسائٹی کی تاریخ میں تاریک دن تھا۔ بی جے پی کی ریاستی حکومت کی ملی بھگت سے ریرسٹ آف ریر جرائم کا ارتکاب ہوا ہے لیکن اس کے باوجود SITججس نے مجرموں کو کم سے کم سزا سنائی ہے۔ یہ واقعی میں ان تمام لوگوں کو جو عدلیہ سے انصاف کی توقع کررہے تھے ان کے لیے مایوسی کی بات ہے۔تاہم SDPI قومی صدر اے سعید نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی ستائش کرتے ہوئے کہا ہے کہ خصوصی ٹیم فسادیوں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرنے میں کامیاب رہی ہے ، جو آزاد ہندوستان میں شاذو نادر ہی دیکھنے کو ملتا ہے!۔