
حب الوطنی کو قید کی سزا کے ذریعے نافذ نہیں کیا جا سکتا: ‘وندے ماترم’ سے متعلق ترمیم سنگین آئینی خدشات کو جنم دیتی ہے
سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کے قومی جنرل سیکرٹری محمد اشرف نے راجیہ سبھا میں ‘قومی وقار کی توہین کی روک تھام (ترمیمی) بل، 2026’ کی منظوری پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ‘وندے ماترم’ کے گانے میں جان بوجھ کر رکاوٹ ڈالنے یا اسے روکنے کو مجرمانہ فعل قرار دینا اظہارِ رائے، ضمیر کی آزادی اور مذہبی آزادی کی آئینی ضمانتوں کو کمزور کرتا ہے۔ حب الوطنی کو قانون سازی یا قید کی سزا کے ذریعے نافذ نہیں کیا جا سکتا۔ قوم سے محبت کا جذبہ پختہ یقین اور ضمیر کی آواز سے پیدا ہونا چاہیے، نہ کہ سزا کے خوف سے۔ ہندوستان ایک کثیر الجہتی اور سیکولر جمہوریہ ہے جہاں کسی بھی شہری کو ضمیر کے معاملات پر مجرمانہ کارروائی کا سامنا نہیں کرنا چاہیے۔ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے موجودہ قوانین کافی ہیں، جس کی وجہ سے یہ نیا قانون غیر ضروری ہے اور اس بات کا خدشہ ہے کہ اختلافِ رائے رکھنے والوں کے خلاف اس کا غلط استعمال کیا جا سکتا ہے۔ پارلیمنٹ کو علامتی مجرمانہ قانون سازی کے بجائے بے روزگاری، مہنگائی، تعلیم اور عوامی بہبود جیسے مسائل کو ترجیح دینی چاہیے۔ ایس ڈی پی ائی حکومت پر زور دیتی ہے کہ وہ اس ترمیم کو واپس لے اور آئینی حقوق و جمہوری اقدار کا پاس رکھے۔
No Comments