
ایس ڈی پی آئی نے ہیمنت بسوا سرما کی فرقہ وارانہ بیان بازی کے خلاف الیکشن کمیشن آف انڈیا سے کارروائی کا مطالبہ کیا
نئی دہلی۔ (پریس ریلیز)۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کے قومی جنرل سکریٹری محمد الیاس تمبے نے ہیمنت بسواسرما ے حالیہ ریمارکس کی سخت مذمت کی ہے، جس میں انہوں نے واضح طور پر کہا تھا کہ ”آسام میں آنے والے ہندو پناہ گزین ہیں، جب کہ مسلمان درانداز ہیں۔“ محمد الیاس تمبے نے کہا کہ اس طرح کا بیان جاری انتخابات کے دوران ووٹرز کو مذہبی خطوط پر پولرائز کرنے کی دانستہ کوشش ہے۔ محمد الیاس تمبے نے اس بیانیے کے پیچھے سیاسی ارادے پر سوال اٹھایا، یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ وہ مسلم کمیونٹیز کو بیرونی اور انتخابی مخالف کے طور پر پیش کرتے ہوئے ہندو ووٹ بلاک کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔
محمد الیاس تمبے نے کہا کہ اس بیان بازی کو انتہائی مسابقتی انتخابی ماحول کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے جہاں حکمرانی اور ترقی سے توجہ ہٹانے کے لیے تفرقہ انگیز بیانیے کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ محمد الیاس تمبے نے کہا کہ شفاف سرکاری اعداد و شمار کی کمی کے باوجود ”دراندازوں ” کے بارے میں بار بار کے دعوے خوف پیدا کرنے اور سماجی تقسیم کو گہرا کرنے کے لیے ایک حسابی حکمت عملی کو ظاہر کرتے ہیں۔ محمد الیاس تمبے نے مزید کہا کہ بے دخلی مہم اور ووٹر لسٹ میں بے ضابطگیوں کی رپورٹس کے ساتھ مل کر اس طرح کے بیانات مخصوص کمیونٹیز کو نشانہ بنانے کے لیے انتظامی طریقہ کار کے غلط استعمال کے بارے میں سنگین خدشات کو جنم دیتے ہیں۔
محمد الیاس تمبے نے باضابطہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے اصولوں کی خلاف ورزی کرنے پرہیمنت بسوا سرماکے خلاف فوری اور سخت کارروائی کرے۔ محمد الیاس تمبے نے الیکشن کمیشن پر زور دیا کہ وہ ان بیانات کا نوٹس لے، مناسب کارروائی شروع کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ کسی سیاسی رہنما کو انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کے لیے مذہب کا استحصال کرنے کی اجازت نہ ہو۔ محمد الیاس تمبے نے اس بات پر زور دیا کہ آئینی اقدار کا تحفظ اور انتخابی عمل کی سا لمیت کو برقرار رکھنا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے اور کارروائی میں کسی قسم کی تاخیر سے فرقہ وارانہ پولرائزیشن کو مزید تقویت ملے گی۔
No Comments