حکومت کو یہ بتانا ہوگا کہ خواتین پہلوانوں کے جنسی ہراسانی کے مقدمے میں برج بھوشن شرن سنگھ کیسے بری ہوئے: یاسمین فاروقی

سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کی قومی جنرل سکریٹری یاسمین فاروقی نے خواتین پہلوانوں کے جنسی ہراسانی کے مقدمے میں برج بھوشن شرن سنگھ اور ونود تومر کی بریت پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ یاسمین فاروقی نے کہا کہ استغاثہ کا جرم ثابت کرنے میں ناکامی (جس میں کسی معقول شک کی گنجائش نہ رہے) تفتیش اور قانونی کارروائی میں سنگین کوتاہیوں کو بے نقاب کرتی ہے۔ مرکزی حکومت کو وضاحت کرنی چاہیے کہ ایک سیاسی طور پر بااثر شخصیت کے خلاف متعدد شکایت کنندگان پر مشتمل مقدمہ، شواہد میں تضادات اور تاخیر کی وجہ سے کیسے کمزور پڑ گیا اور ختم ہو گیا؛ اس صورتحال نے تفتیشی عمل کی دیانتداری اور عزم پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ یاسمین فاروقی نے کہا کہ حکومت محض عدالتی فیصلے کا حوالہ دے کر اپنی ذمہ داری سے بچ نہیں سکتی کیونکہ استغاثہ کا مقدمہ کمزور پڑ کر ختم ہو جانا ادارہ جاتی ناکامی کی عکاسی کرتا ہے۔ جب سنگین الزامات کا انجام تفتیشی اور قانونی کارروائی کی کوتاہیوں پر ہوتا ہے، تو یہ تاثر عام ہوتا ہے کہ طاقتور لوگوں کو تحفظ ملتا ہے جبکہ متاثرین کو انصاف سے محروم رکھا جاتا ہے۔ یاسمین فاروقی نے احتساب کا عمل یقینی بنانے اور نظامِ انصاف پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے ایک آزادانہ عدالتی جائزے کا مطالبہ کیا۔