الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری اور آزادی کو برقرار رکھا جائے۔ایس ڈی پی آئی


نئی دہلی۔ (پریس ریلیز)۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے قومی نائب صدر اڈوکیٹ شرف الدین احمد نے اپنے جاری کردہ اخباری بیان میں کہا ہے کہ ہندوستان میں جمہوری نظام کی بنیاد انتخابی عمل کی غیر جانبداری اور شفافیت پرقائم ہے۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا کی آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ اس عمل کو غیر جانبدارانہ اور آزادانہ طور پر انجام دے۔ لیکن کچھ حالیہ پیش رفت نے کمیشن کی غیر جانبداری اور آزادی پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔
لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف شری راہول گاندھی کے ذریعہ شائع کردہ ایک تفصیلی مضمون ”مہاراشٹر میں میچ فکسنگ” نے اس بحث کو مزید تیز کردیا ہے۔ اس مضمون میں، انہوں نے 2024 کے مہاراشٹر اسمبلی انتخابات میں وسیع پیمانے پر بے ضابطگیوں، مبہم پن اور انتظامی ناکامیوں کا الزام لگایا ہے۔ خاص طور پر انہوں نے ووٹر لسٹ میں مشکوک ناموں کی شمولیت، لوک سبھا انتخابات کے بعد رائے دہندوں کی تعداد میں اچانک غیر فطری اضافہ اور ووٹنگ کے آخری مرحلے میں غیر متوقع اضافے جیسے مسائل اٹھائے، جس نے بی جے پی-شیو سینا (شندے) اتحاد کو جیتنے میں مدد دی۔کمیشن کی طرف سے ان الزامات پر دیئے گئے جواب نے تنازعہ کو ٹھنڈا کرنے کے بجائے مزید بحث کو جنم دیا ہے۔ الیکشن کمیشن کا یہ دعویٰ کہ اپوزیشن کی بڑی جماعتوں نے اس موضوع پر وضاحت کے لیے اس سے کبھی رابطہ نہیں کیا، حقیقتاً غلط معلوم ہوتا ہے۔ کئی قومی سیاسی پارٹیوں نے مختلف ریاستوں میں انتخابات کے منصفانہ ہونے پر دستاویزات اور حقائق کی بنیاد پر شدید اعتراضات درج کیے ہیں، جنہیں بار بار نظر انداز کیا گیا ہے۔


اس تنازعہ کے مرکزمیں کچھ حالیہ پیش رفت ہیں جنہوں نے الیکشن کمیشن کی آزاد حیثیت سے سمجھوتہ کیا۔ آئینی دفعات کے مطابق اسے مکمل طور پر آزاد ہونا چاہئے تھا۔ لیکن کمشنروں کی تقرری کے طریقے میں حالیہ تبدیلیوں نے، جس میں ایگزیکٹیو کی طر ف سے بہت زیادہ طاقت اور اثر و رسوخ حاصل کیا گیا ہے، بہت سے لوگوں نے ان کی آزادی کے بارے میں سوال اٹھایا ہے۔ سپریم کورٹ کی واضح ہدایت کے باوجود کہ چیف جسٹس کو سلیکشن کمیٹی کا حصہ بنایا جائے، نریندر مودی حکومت نے اسے نظر انداز کردیا۔ آج جس انداز میں حکومت کی طرف سے تعینات افسران کی تقرری کی جا رہی ہے اس سے ان کے تئیں متعصبانہ رویہ کا شبہ پیدا ہوتا ہے۔


اس کے علاوہ، الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایم) کے بارے میں عوام کے درمیان بڑے پیمانے پر شکوک و شبہات ابھی تک دور نہیں ہوئے ہیں۔ اپوزیشن پارٹیاں مسلسل جہاں شک ہو VVPAT پرچیوں کی لازمی گنتی کا مطالبہ کر رہی ہیں، لیکن اس سلسلے میں کوئی سنجیدہ اقدام نہیں کیا گیا۔مزید یہ کہ کئی جگہوں پر حقیقی ووٹرز کے نام یہ بہانہ بنا کر حذف کر دیے جاتے ہیں کہ وہ اجنبی ہیں۔ یہ ایک ایساعمل ہے جس سے کمزور طبقات، خاص کر مسلمانوں، دلتوں، آدی واسیوں کے جمہوری حقوق کو ٹھیس پہنچتا ہے۔


ان حالات میں یہ ضروری ہو گیا ہے کہ حکومت اور الیکشن کمیشن عوام کے سوالات کا جواب دیں اور ہندوستان میں انتخابی عمل کی شفافیت اور ساکھ کو یقینی بنائے۔