عالمی انتخابی رجحانات دائیں بازو اور صہیونی سیاست کے خلاف بڑھتی ہوئی مخالفت کا اشارہ: ایس ڈی پی آئی

امریکہ، اسرائیل اور برازیل میں حالیہ انتخابی پیش رفت دنیا کو ایک اہم سیاسی پیغام دے رہی ہے۔

امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کے نتائج ڈونالڈ ٹرمپ کے سیاسی ایجنڈے اور پالیسیوں کے تئیں عوام کی بڑھتی ہوئی ناراضگی کو ظاہر کرتے ہیں۔ دوسری جانب، اسرائیل میں بنجامن نیتن یاہو کے حکمراں اتحاد کا پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہنا، انتہائی دائیں بازو کے سیاسی نظام اور اس کی پالیسیوں کے خلاف بڑھتی ہوئی مزاحمت کی علامت ہے۔ اسی طرح، برازیل میں ٹرمپ کے حمایت یافتہ امیدوار فلاویو بولسونارو کی شکست بھی دائیں بازو کی عوامیت پسند سیاست کے خلاف بدلتے ہوئے عوامی رجحان کو ظاہر کرتی ہے۔

یہ تمام پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ دنیا بھر میں انتہائی دائیں بازو کی سیاست اور صہیونی ایجنڈے کے لیے چیلنجز بڑھ رہے ہیں۔ خاص طور پر اس لیے کہ یہ ایجنڈا قبضے، عسکریت پسندی اور فلسطینی عوام کی مسلسل تکالیف سے جڑا ہوا ہے۔

بھارت کو عالمی سطح پر بدلتی ہوئی ان سیاسی اور سفارتی حقیقتوں کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے۔ صہیونی پالیسیوں کی سیاسی اور سفارتی حمایت کرنا، انصاف، حق خود ارادیت اور مظلوم عوام کے حقوق کے تئیں بھارت کے تاریخی عہد کے منافی ہے۔ اس طرح کی وابستگی بین الاقوامی سطح پر بھارت کی نیک نامی اور آزاد خارجہ پالیسی کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہے۔

ایس ڈی پی آئی حکومتِ ہند سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اسرائیل کی غیر مشروط حمایت کی اپنی پالیسی پر نظرثانی کرے، فلسطینی عوام کے حقوق کا تحفظ کرے اور انصاف، امن اور انسانی وقار کے تئیں بھارت کے عزم کا اعادہ کرے۔

دہلان باقوی
قومی نائب صدر، ایس ڈی پی آئی