ایس ڈی پی آئی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ و طالبات کو تاریخی کامیابی پر مبارکباد، جمہوری حقوق کی جدوجہد اور غیرمتزلزل عزم کو سلام

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ و طالبات کو جامعہ طلبہ یونین کی بحالی کی جدوجہد میں تاریخی کامیابی حاصل کرنے پر دلی مبارکباد پیش کرتی ہے۔ اٹھارہ روزہ بھوک ہڑتال اور غیرمعینہ دھرنے کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے طلبہ کے اہم مطالبات تسلیم کیا جانا ملک کی طلبہ تحریکوں اور جمہوری جدوجہد کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ہے۔

ایس ڈی پی آئی ان طلبہ کے حوصلے، عزم، اتحاد اور غیرمتزلزل جدوجہد کو سلام پیش کرتی ہے، جنہوں نے مسلسل دباؤ، بھوک ہڑتال پر بیٹھے طلبہ کی بگڑتی ہوئی صحت اور مختلف چیلنجوں کے باوجود اپنے جائز جمہوری مطالبات سے سمجھوتہ نہیں کیا۔ یہ کامیابی ان کی مسلسل جدوجہد، اجتماعی قوت، ثابت قدمی اور اصولوں پر قائم رہنے کا نتیجہ ہے۔ طلبہ نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ منظم، پُرامن اور غیرمتزلزل جدوجہد، باہمی یکجہتی اور اجتماعی عمل کے ذریعے جمہوری حقوق حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ مختلف طلبہ تنظیموں اور نظریاتی پس منظر سے تعلق رکھنے والے طلبہ کا اتحاد اس جدوجہد کی ایک اہم طاقت بن کر سامنے آیا ہے۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ کی تاریخ تحریکِ آزادی اور تحریکِ خلافت کی جدوجہد سے گہری وابستگی رکھتی ہے۔ ۱۹۲۰ء میں مولانا محمد علی جوہر، حکیم اجمل خان، ڈاکٹر مختار احمد انصاری اور ڈاکٹر ذاکر حسین سمیت متعدد ممتاز قومی رہنماؤں اور مجاہدینِ آزادی کی کوششوں سے قائم ہونے والی جامعہ نے نوآبادیاتی نظام کے خلاف مزاحمت، تعلیمی خودمختاری اور قومی اتحاد کے جذبے کے تحت ایک منفرد شناخت قائم کی۔ اس کی تاریخی وراثت آزادی، سیکولرازم، مساوات اور سماجی تبدیلی کے اصولوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ سی اے اے مخالف تحریک میں اس کی نمایاں شرکت سے لے کر طلبہ یونین کی بحالی کی حالیہ جدوجہد تک، جامعہ نے اپنی اسی مزاحمتی روایت اور جمہوری شعور کو زندہ رکھا ہے۔ اس کے طلبہ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ یونیورسٹی محض تعلیم حاصل کرنے کا ادارہ نہیں بلکہ تنقیدی فکر، آئینی اقدار اور جمہوری حقوق کے تحفظ کا ایک اہم مرکز بھی ہے۔

ایس ڈی پی آئی امید کرتی ہے کہ جامعہ کے طلبہ و طالبات اپنے بانیان کی انقلابی روح، ترقی پسند افکار اور علمی وراثت کو آگے بڑھائیں گے۔ مولانا محمد علی جوہر اور دیگر بانیانِ جامعہ کے افکار آنے والی نسلوں کو عدل، مساوات، اخوت، سیکولرازم اور سماج وادی و مساوات پر مبنی معاشرے کی تعمیر کے لیے مسلسل تحریک دیتے رہیں گے۔ جامعہ کو تنقیدی فکر، جمہوری شعور اور سماجی تبدیلی کا مرکز بنے رہنا چاہیے، جہاں ایسی نسل پروان چڑھے جو ایک جامع، منصفانہ اور مساوی معاشرے کی تعمیر کے لیے پرعزم ہو۔

یہ کامیابی محض طلبہ یونین کی بحالی کا معاملہ نہیں بلکہ اس حقیقت کی یاددہانی بھی ہے کہ جمہوری اداروں کو ان لوگوں کے تئیں جواب دہ ہونا چاہیے جن کی وہ نمائندگی کرتے ہیں۔ جامعہ نے ایک بار پھر ملک کو راستہ دکھایا ہے کہ جمہوریت، سیکولرازم، سماجی انصاف، مساوات اور سماج واد کے لیے اتحاد، اجتماعی جدوجہد اور آئینی حقوق کے تئیں غیرمتزلزل عزم کے ساتھ کس طرح جدوجہد کی جاتی ہے۔ ایس ڈی پی آئی امید کرتی ہے کہ یہ کامیابی ملک کی دیگر یونیورسٹیوں کے طلبہ کو بھی جمہوری نمائندگی، سماجی انصاف، مساوی مواقع، تعلیمی آزادی اور جامع تعلیمی ماحول کے لیے آواز بلند کرنے کی ترغیب دے گی۔

طلبہ اتحاد زندہ باد!
جمہوریت، سیکولرازم، سماجی انصاف اور مساوات زندہ باد!

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی)