
ایس ڈی پی آئی کا کرناٹک میں پٹرول کے اندر 31.2 فیصد ایتھنول کی موجودگی سے متعلق رپورٹس پر تشویش کا اظہار؛ ملک گیر آزادانہ تحقیقات، خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی اور متاثرہ صارفین کو معاوضہ دینے کا مطالبہ
نئی دہلی: سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) نے کرناٹک سے سامنے آنے والی ان رپورٹس پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے، جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پٹرول کے نمونوں میں ایتھنول کی مقدار مقررہ E20 حد سے زیادہ پائی گئی ہے، جبکہ ایک نمونے میں یہ مقدار مبینہ طور پر 31.2 فیصد تک ریکارڈ کی گئی ہے۔ اگر غیر جانبدارانہ اور سائنسی تحقیقات میں ان الزامات کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ معاملہ ایندھن کے معیار، ریگولیٹری نگرانی اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی جوابدہی پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ کرناٹک حکومت اور تیل کمپنیوں کے درمیان متضاد دعوؤں کے پیش نظر ایس ڈی پی آئی مرکزی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ اس معاملے کو سیاسی الزام تراشی کا موضوع بنانے کے بجائے شفاف، آزادانہ اور معتبر تحقیقات کو یقینی بنایا جائے۔
ایس ڈی پی آئی کا ماننا ہے کہ کسی بھی توانائی پالیسی کا جائزہ صرف قومی اہداف یا کارپوریٹ مفادات کی بنیاد پر نہیں بلکہ عام شہریوں، کسانوں اور ماحولیات پر اس کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے لیا جانا چاہیے۔ درآمدی فوسل فیول پر انحصار کم کرنا اور متبادل توانائی کے ذرائع کو فروغ دینا جائز پالیسی مقاصد ہیں، لیکن ان پر عمل درآمد کا بوجھ صارفین پر غیر منصفانہ طور پر نہیں ڈالا جانا چاہیے۔ ایندھن کی اوسط کارکردگی میں کمی، گاڑیوں کے ساتھ مطابقت، مرمت اور دیکھ بھال کے بڑھتے اخراجات، پانی کے استعمال اور غذائی تحفظ پر ممکنہ اثرات جیسے خدشات کو سنجیدہ سائنسی اور عوامی جانچ کے دائرے میں لانا ضروری ہے۔ ایتھنول بلینڈنگ کے فوائد کسانوں اور دیہی آبادی تک پہنچنے چاہئیں، لیکن اس عمل میں صارفین کے حقوق اور ماحولیاتی پائیداری سے کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔
ایس ڈی پی آئی مطالبہ کرتی ہے کہ مرکزی حکومت کرناٹک سے سامنے آنے والے الزامات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائے اور ملک بھر میں پٹرول میں ایتھنول کی مقدار کی آزادانہ اور باقاعدہ جانچ کا نظام قائم کرے۔ تحقیقات کے نتائج عوام کے سامنے پیش کیے جائیں اور پٹرول پمپوں پر صارفین کو ایندھن میں ایتھنول کی مقدار کے بارے میں واضح معلومات فراہم کی جائیں۔ مقررہ معیار کی کسی بھی خلاف ورزی پر ذمہ دار کمپنیوں اور متعلقہ افسران کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے۔ ایندھن کے معیار کی خلاف ورزی کے سبب جن صارفین کو مالی نقصان یا گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے، انہیں مناسب معاوضہ دیا جائے۔ حکومت ایندھن کے معیار اور قیمتوں کے تعین میں شفافیت یقینی بنائے اور صارفین کے اس حق کا تحفظ کرے کہ وہ اپنی گاڑیوں کے لیے موزوں ایندھن کا انتخاب کر سکیں۔ ہندوستان کی توانائی پالیسی کی بنیاد عوامی مفاد، سماجی انصاف، کسانوں کی فلاح و بہبود اور صارفین کے حقوق پر ہونی چاہیے، نہ کہ کارپوریٹ منافع یا انتظامی سہولت پر۔
No Comments