اسرائیلی سفیر کے غیر مہذب تبصرے کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ایس ڈی پی آئی

نئی دہلی۔ (پریس ریلیز)۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آ ف انڈیا کے قومی جنرل سکریٹری الیاس محمد تمبے نے اپنے جاری کردہ اخبار ی بیان میں کہا لوک سبھا کی رکن محترمہ پرینکا گاندھی وادرا کی طرف سے غزہ میں فلسطینی عوام پر اسرائیل کے حملوں پر عوامی تنقید پر ہندوستان میں اسرائیلی سفیر کا انتہائی غیر مہذب تبصرہ ہندوستان کی جمہوری سیاسی روایات پر اسرائیلی حکام کا ایک کھلا حملہ ہے اور اس سے سنجیدگی سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔جب محترمہ پرینکا گاندھی نے ٹویٹ کیا کہ ”اسرائیلی ریاست غزہ میں نسل کشی کر رہی ہے”، تو وہ صرف ایک رائے کا اظہار کر رہی تھیں جو تقریباً تمام عالمی رائے عامہ کی طرف سے مشترکہ ہے۔ حتیٰ کہ اسرائیل کے سابق وزیر اعظم ایہود اولمرٹ اور بہت سے سینئر سیاستدانوں نے بھی ایسی ہی باتیں کہی ہیں اور موجودہ حکومت کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے اور پچھلے دو سالوں میں نہتے فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کی جنگ چھیڑنے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
دنیا کے تمام حصوں میں منصفانہ مقاصد کی حمایت کرنے اور ہر طرح کے مظالم کے خلاف ہرجگہ لوگوں کا دفاع کرنے کی تاریخ رکھنے والے ہندوستان کو غزہ کی موجودہ صورتحال کے خلاف آواز اٹھانے اور وہاں کے لوگوں کے لیے اپنی تشویش کا اظہار کرنے کا حق ہے۔
لیکن اسرائیلی سفیر ریوین آزر نے تمام سفارتی آداب اور کنونشنز کو نظر انداز کرتے ہوئے ہندوستانی پارلیمنٹ کے ایک سینئر اپوزیشن ممبر کے ساتھ عوامی جھگڑے کا انتخاب کیا۔ سفیروں کا فرض ہے کہ وہ اپنے میزبان ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کریں۔ مسز گاندھی کی تنقید کا نشانہ اسرائیلی اسٹیبلشمنٹ پر تھا جتنا کہ ہندوستانی حکمران طاقتوں پر، جنہوں نے ہر بین الاقوامی فورم پر ان حملوں کی واضح مذمت کرنے سے گریز کیا۔ اس کے باوجود، اسرائیلی سفیر نے مسز گاندھی کو نشانہ بنایا اور ان پر ”شرمناک دھوکہ” کا الزام لگایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ غزہ میں مارے جانے والے تمام افراد ”حماس کے دہشت گرد” تھے جو لوگوں کے درمیان چھپے ہوئے تھے اور ان پر گولیاں برسا رہے تھے اور امداد حاصل کرنے والوں کو روک رہے تھے۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ اسرائیل نے غزہ میں 20 لاکھ ٹن خوراک بھیجی اور وہاں کوئی قتل عام نہیں ہوا۔
پوری دنیا کے سامنے غزہ میں رونما ہونے والے ہولناک واقعات کے پیش نظر سفیر کے جھوٹے دعوے مضحکہ خیز اور قابل مذمت ہیں۔ اسرائیل کو نہ تو انسانی حقوق کی پرواہ ہے اور نہ ہی عالمی رائے عامہ کی۔ غزہ میں ان کے اقدامات جنگی جرائم ہیں اور اسے بین الاقوامی فوجداری عدالت نے بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی کے طور پر دستاویز کیا ہے۔ یہ صرف وقت کی بات ہے جب ان جنگی مجرموں بشمول وزیر اعظم نیتن یاہو کو انسانیت کے خلاف ان کے سنگین جرائم کے لیے انصافکے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ایسے میں حکومت ہند کو اس معاملے کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور اپنے سفیر کے اس اشتعال انگیز رویے پر اسرائیلی حکومت سے سخت احتجاج درج کرانا چاہیے۔ نریندر مودی حکومت کو یہ سمجھنا چاہیے کہ بھارت کے داخلی معاملات میں بیرونی طاقتوں کی مداخلت ایک سنگین تشویش کا باعث ہے اور اگر اسے جاری رکھنے کی اجازت دی گئی تو یہ عالمی سطح پر ملک کے لیے ایک بڑی شرمندگی ثابت ہوگی۔ اس لیے وزارت خارجہ کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ ان اشتعال انگیز ریمارکس پر اپنا اختلاف اور اعتراض باضابطہ طور پر درج کرے۔