SDPI

Social Democratic Party of India

सोशल डेमोक्रेटिक पार्टी ऑफ़ इंडिया

Freedom from Hunger, Freedom from Fear

Flag

BJP won the seats but its popularity declined drastically: SDPI

New Delhi 12 March 2017: Social Democratic Party of India Vice President Adv. Sharfuddin in his press statement while acknowledging landslide triumph by BJP in UP and notable victory in Uttarakhand and Manipur, said SDPI articulates that these elections indicate that the voters have shown their mindset of change of governance in their respective states. He said, though the BJP got massive victory in UP, its vote percentage in the state has declined as in 2014 the votes were 42.3% reduced to 39.7% in 2017. In Uttarakhand votes percentage downed from 55.3% to 46.5% a downfall of 9%, whereas in Goa a steep downfall from 53.4% to 32.5%, an uproot of 20%. These statistics show that present results are not the outcome of Modi’s popularity or the popularity of his governance, but a clear indication of unbearable feelings of the people against the ruling state governments as in all the states except Manipur, the existing governments lost their regime.

Adv Sharfuddin reiterated that the BJP, as usual, has succeeded in polarizing the votes on communal grounds by delivering speeches raking the religious sentiments of a section of people which is a dangerous phenomenon in respect of safeguarding the pluralistic aspect of our nation. He lamented that the Election commission has to take these tantrums of the parties seriously without giving any small provisions to escape from its surveillance and action. In the context of voice of rift by a National Party in UP against EVM (Electronic Voting Machine) system, the Election Commission has to review the EVM system by inviting all the facts and opinions without any obstinacy and rigidity. It’s a fact that many foreign developed nations including USA have rejected EVMs in the election fearing manipulation and rigging of votes.   Hence, the Election Commission should consider this matter seriously and should opt for only manual voting system. EC should also order a high level impartial inquiry about the veracity of EVMs in the elections held in those above states.

On the other hand, Adv. Sharfuddin said, the secular parties have miserably failed to protect their grit and integrity and also failed in exerting strategic organized efforts to defeat the communal mission. It’s the time now for all the secular parties and their leadership to rethink about their ideological steadfastness, determined agenda and unify every regional and small parties to set up a positive and broad based platform to regain the secular and inclusive political governance in the country.

بی جے پی اسمبلی نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب مگر عوام میں بی جے پی کی مقبولیت میں گراوٹ آئی ہے۔ ایس ڈی پی آئی

سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کے قومی نائب صدر اڈوکیٹ شرف الدین احمد نے اپنے اخباری اعلامیہ میں اتر پردیش کے حالیہ انتخابی نتائج پر بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ بی جے پی نے اتر پردیش ، اتراکھنڈ اور منی پور میں قابل ذکر کامیابی حاصل کی ہے مگر عوام میں بی جے پی کی مقبولیت میں گراوٹ آئی ہے۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کے مشاہدے کے مطابق حالیہ اسمبلی انتخابات میں رائے دہندگان نے اپنے متعلقہ ریاستوں میں حکومت کی تبدیلی کا اظہار کیا ہے ۔ ایس ڈی پی آئی قومی نائب صدر اڈوکیٹ شرف الدین نے اس بات کی طرف خصوصی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی جے پی نے ریاست اتر پردیش میں بڑے پیمانے پر کامیابی حاصل کی ہے لیکن بی جے پی کو 2014کو جو 42.3%فیصد ووٹ ملے تھے وہ 2017میں گھٹ کر 39.7%فیصد ہوگئے ہیں۔ اسی طرح اتراکھنڈ میں گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں 55.3% فیصد سے گھٹ کر 46.5%ہوگئے ہیں۔ اتراکھنڈ میں گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں بی جے پی کو 9%فیصد ووٹ کم ملے ہیں۔ جبکہ گوا میں بی جے پی کو شدید جھٹکا لگا ہے۔گزشتہ انتخابات میں بی جے پی کوگوا میں 53.4%فیصد ملے تھے اور حالیہ انتخابات میں صرف 32.5%فیصد ووٹ ملے ہیں ۔ گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں گوا میں بی جے پی کو 20% فیصد ووٹ کم ملے ہیں۔ ان اعدادو شمار سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حالیہ نتائج نریندر مودی کی مقبولیت یا ان کے طرز حکمرانی کی مقبولیت کا نتیجہ ہیں۔ منی پور کے علاوہ تمام ریاستوں میں عوام نے اپنے ناقابل برداشت جذبات کااظہار کیا ہے ۔ جس سے ان ریاستوں موجودہ حکومتوں کو اقتدار سے محروم ہونا پڑا ہے۔ اڈوکیٹ شرف الدین احمد نے اس بات کی طرف خصوصی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی جے پی نے ہمیشہ کی طرح اشتعال انگیز تقاریر کے ذریعے ایک طبقے کے مذہبی جذبات کو بھڑکا کر فرقہ وارانہ بنیاد پر ووٹوں کو تقسیم کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔جو ہمارے ملک کی تکثیری پہلوکے تحفظ کے سلسلے میں ایک خطرناک رجحان ہے۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ جن پارٹیو ں نے EVMکے تعلق سے اعتراض کیا ہے اس پر الیکشن کمیشن کو سنجیدگی سے غورکرنا چاہئے اور تمام آراء اور حقائق کو بغیر کسی جانبدارانہ رویہ اور ضد کے EVMکے نظام کا جائزہ لینا چاہئے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ امریکہ سمیت کئی غیر ملکی ترقی یافتہ ملکوں نے انتخابات میں ہیرا پھیری اورووٹوں کی دھاندلی کے ڈر سے الیکٹرانک ووٹنگ مشین ( EVM)کو مسترد کردیا ہے۔ لہذا الیکشن کمیشن کو اس معاملے میں سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے اور صرف بیلٹ ووٹنگ کے نظام کا انتخاب کرنا چاہئے نیز الیکشن کمیشن کو چاہئے کہ وہ مذکورہ ریاستوں میں ہوئے انتخابات میں EVMمشینوں کی حقیقت کے بارے میں سچائی جاننے کے لیے غیر جانبدارنہ اعلی سطحی انکوائری کا حکم دینا چاہئے۔ اڈوکیٹ شرف الدین نے مزید کہا ہے کہ سیکولر پارٹیاں اپنے تحمل اور سا لمیت کی حفاظت میں بری طرح ناکام ہوئے ہیں اور فرقہ وارانہ مشن کو شکست دینے کے لیے حکمت عملی اور منظم کوشش کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ تمام سیکولر پارٹیاں اپنے نظریاتی استقامت، مضبوط قیادت کے تعلق سے نظر ثانی کرنی چاہئے اور تمام علاقائی اور چھوٹی پارٹیوں کا ایک مثبت اور وسیع پلیٹ فارم پر متحد کرنا چاہئے تاکہ ملک میں سیکولر اور جامع سیاسی اسلوب حکمرانی کو دوبارہ قائم کیا جاسکے۔

Share on Facebook0Google+0Tweet about this on TwitterShare on LinkedIn0Pin on Pinterest0
BJP won the seats but its popularity declined drastically: SDPI
1 vote, 3.00 avg. rating (67% score)

Новый комментарии

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

comments powered by Disqus